شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

’’مجھے اذنِ جنوں دے دو‘

’’مجھے اذنِ جنوں دے دو‘‘ میرے چند خوابوں کا ادھورا عکس ہے۔وہ نقشِ ناتمام جس کی تکمیل میں ایک عمر تمام ہو جائے۔سبھی خواب حقیقت کا روپ نہیں دھارتے مگر کئی خواب ہماری لگن کا ایندھن ثابت ہوتے ہیں۔اپنے آپ کو دریافت کرنے کی لگن____ اپنی ذات کو کھوجنے کا جنوں۔خود آگہی کا ایسا سفر جس کی ابتدا ہمارے اختیار میں نہیں مگر اُس کو جاری رکھنا ہماری مجبوری ہے اور مجبوری کو اگر ارادے کی سند مل جائے تو سفر بامراد ٹھہرتا ہے۔
زندگی لاتعداد بے چہرہ خوابوں کا نامانوس عکس ہے۔اس کے کینوس پر پورے عرصۂ عمر میں خوابوں اور تمناؤں کی رنگ آمیزی جاری رہتی ہے مگر نقش کسی کسی کے واضح ہو کر ابھرتے ہیں اور شاہ کار تو کوئی ایک آدھ ہی بن پاتا ہے۔ یہ وہ فن ہے جس نے بے ہُنر اور با ہُنر دونوں کو ہی آزمانا ہے۔ اپنی ذات کی دریافت دراصل مجسمہ سازی کا وہ فن ہے جس میں ہمارے ہاتھوں میں تیشہ تھما کر ہمیں اپنی ہی تراش خراش پر مامور کر دیا جاتا ہے کہ جاؤ! اور خود کو چاہے کتنا ہی زخمی کرو،درد سہو، چوٹ کھاؤ مگر خام سے کندن، پتھر سے ہیرااور چٹان سے مجسمہ بن کے دکھاؤ۔ہمیں اس کوشش میں اکثر خود کوزخمی کرنے کے سوا اور کُچھ حاصل نہیںہو پاتا،ہاں ! زندگی کا سفر ضرور تمام ہو جاتا ہے۔
انسان ہمیشہ لاحاصل کے پیچھے بھاگ کر تسکین محسوس کرتا ہے۔میں منزل کو سراب ہی سمجھتی ہوں ؛ میرے نزدیک سفر ہی اساسِ حیات ہے۔منزل کی ضرورت صرف اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ اس کے بہلاوے کے سہارے سفر خوش گوار گزرتا ہے۔منزل ’’منجمد بہشت‘‘ کے سوا کُچھ اور نہیں۔بس ایک لاگ ہے اور لاگ تو جس تن لاگے وہ ہی جانے۔ مجھے زندگی خوابوںاور سرابوں سے پیار ہے۔مجھے لاگ، لگن اور لاحاصل جستجو پسند ہے۔میرے نزدیک انسانیت سب سے پہلا مذہب ہے اور امن و آزادی سب سے بنیادی حقِ زندگی۔
میں محسوسات کے اُس جہان کی باسی ہوں جہاں نوکِ خار پر شبنم کا لزرتا وجود بھی صلیب پر لٹکا نظر آتاہے اور جہاں کسی معصوم بچے کی مسکراہٹ کائنات کا سب سے حسیںمنظر دکھائی دیتا ہے۔میری آزرو ہے کہ میرے وطن کا کوئی آنگن بے چراغ نہ ہو اور اس کی منڈیروں پر کبھی اداسیوں کی دھوپ نہ اُترے۔کیوں کہ محبت سے وسیع کوئی جاگیر نہیں اور امن سے بڑھ کر کوئی سُکھ نہیں۔بے یقینی کی فضائیںہماری زندگی کو زندان خانے میں بدل دیتی ہیں؛جہاں نااعتباری کی سلاخوںکے پیچھے ہم قیدِ تنہائی کے اسیر بن جاتے ہیں۔روزنِ زنداں سے چِپکے سہمے سہمے وجود___ اُمید اور یقین کی شامیں بے چراغ ہو جائیں تو راتیں طویل ،بوجھل اور سرد ہو جایا کرتی ہیں۔ایسے کڑے امتحانوں میں اپنے اپنے من کا دِیا جلا کر صبحِ زندگی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔زندگی کا سارا حُسن اس کے ہونے میں ہے۔زندگی ہر آنکھ میں بے شمار خوابوں کی چلمنیں سجاتی ہے۔
زندگی نے مجھ پر محبت وآگہی کے بے شمار دریچے وا کیے۔مجھے اس کی کڑواہٹیں اور تلخیاں بھی اتنی ہی عزیز ہیں جتنی اس کی نوازشیں اور عنایتیں۔مجھے اس سے پیار ہے اس لیے میں نے اس کے ہر روپ کو دل وجان سے تسلیم کیا ہے۔ کہیں یہ کھلی بانہوں کے ساتھ میرے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے تو کہیں نظریں چُرائے،روٹھی روٹھی ،اُکھڑی اُکھڑی،منہ پھیر کے راستہ بدلتی دکھائی دیتی ہے۔مجھے تو اُن لمحوں میں بھی اس کی محبتِ کا یقینِ کامل رہا جب مجھے یہ درد کے بندھنوں میں اسیر دیکھ کر شانِ بے نیازی سے میرے پاس سے گزرتی رہی ہے۔زندگی کا یہی پیار اور وارفتگی،اس کی یہی شوخیاں اور کج ادائیاں میری نظموں ، غزلوں میں جھلکتی ہیں۔
لفظ سے میرا رشتہ کتنا پُرانا ہے یہ تو مجھے یاد نہیں مگر تخلیقِ شعر کے عمل میں میں نے خود کو ہمیشہ بے بس پایا ہے۔میں نہیں جانتی کہ شعر کیسے لکھا جاتا ہے اور مصرعے کیسے ایک دوسرے کے تعاقب میں قطار اندر قطار اُمڈے چلے آتے ہیں۔میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ شعر بادل کی طرح مجھ پر چھا جاتا ہے اور برسات کی طرح ٹوٹ کر برستا ہے۔جوں جوں میرا تن من اس کے قرب سے بھیگتا جاتا ہے تُوں تُوں میری روح سُلگتی جاتی ہے۔ تن سیراب بھی ہو جائے تو من جلتا رہتا ہے۔بادل کی دھند ، سُلگتی آگ کے دھوئیں میں کب بدل جاتی ہے ،مجھے پتا ہی نہیں چلتا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ لفظ اور قلم کا رشتہ بہت نازک ہے،میرے بے ہُنر ہاتھوں میں لزرتے قلم کی زبان ٹوٹے بکھرے لفظ تخلیق کرتی رہتی ہے۔لفظوں کے تانے بانے بکھرتے، ٹوٹتے،الجھتے ،سنورتے رہتے ہیں۔
مجھے اس کا بخوبی ادراک ہے کہ میرا شعر سے رشتہ ہنوز مضبوط نہیں ہو سکا اور مجھے اس کے رمزو ایما،نزاکتوں اور لطافتوں کو سمجھنے میں ابھی طویل ریاضت درکار ہے مگر اس کے باوجود میں اپنے اس شعری سفر کی حامل پہلی کتاب کو منظرِ عام پر لانے کا جتن کر رہی ہوں۔مجھے اعتراف ہے کہ اس کتاب میں میرے شعری سفر کی لغزشیں اور کوتاہیاں شعر آشناؤں سے چھپی نہیں رہیں گی مگر مجھے بے چہرہ خوابوں کا چہرہ تراشنے کی جستجو اور اپنے تشخص کی لگن اس کی اشاعت پر مسلسل مائل کرتی رہی ہے ۔یہ کتاب کسی بچے کی تحریر کردہ اُس پہلی تختی کی مانند ہے جو اس کے لیے شاہکار اور ناقد کے لیے بے کار بھی ہو سکتی ہے مگر یہاں مجھے مارشل کا ایک قول یاد آ رہاہے کہ:
’’کوئی شک نہیں کہ میرے کپڑے پھٹے پُرانے ہیں لیکن یہ میرے اپنے ہیں۔‘‘
میری کتاب زندگی کے رویّوں اور روایتوں کاردِ عمل بھی ہے اور ایک عورت کے محسوسات کا اظہاریہ بھی۔ جو بحیثیت انسان اپنی تمام تر داخلی و خارجی کیفیات کے برملا اظہار کی خواہاںہے۔ ہر انسان اظہارِ ذات کے لیے مختلف ذرائع اپناتا ہے۔میرے پاس دو ہی طریقے ہیں یا اپنے قلم کو زبان بناؤں یا اپنے بُرش اور رنگوں کے ساتھ کھیل کر اپنے ہونے کا ثبوت دوں۔ اللہ کریم نے ایک اور کرم مجھ پر یہ کیا کہ مجھے پیشۂ پیغمبری سے وابستہ کر دیا،سو اظہار کی تیسری صورت بھی مجھے حاصل ہو گئی۔
میری تُک بندیوں کو ایک مکمل کتاب کے سانچے میں ڈھالنے میں میرے عزیز واقارب کا بہت بڑا حصّہ ہے۔اگر اتنے سارے لوگوں کی محبت اوررہنمائی شاملِ حال نہ ہوتی تو شاید میں اس کی جرأت نہ کر پاتی۔خاص طور پر میرے والدین کی دُعائیں، میرے بہن بھائیوںکا پیار، میری دوستوں کا خلوص،میرے اساتذہ کی حوسلہ افزائی اور میرے جیون ساتھی شاہد علی کا تعاون قابلِ ذکر ہے۔
کتاب کی نوک پلک سنوارنے اور اسے لباسِ طباعت سے آراستہ کرنے میں جس شخصیت نے اہم ترین کردار ادا کیا ،وہ استاد وہ محسن ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ صاحب ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ اُن کی رہنمائی اور شفقت کے بغیریہ کتاب کبھی منظرِ عام پر جلوہ گر نہ ہوتی۔اُن کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس لفظ بھی نہیں ہیں۔ میرے کمپیوٹر کے استاد جناب عبدالجبار ہاشمی صاحب نے میری شاعری کو بہ اصرار خود کمپوز نگ کے عمل سے گزارا،میں ان کی بھی شکر گزار ہوں۔ جناب محمد افضل آرٹسٹ؍ مصوّر بھی میرے دلی شکریے کے مستحق ہیں کہ رنگوں کی دُنیا میں مجھے ان کی رہنمائی حاصل رہی۔ سرورق کے لیے کئی آئیڈیاز ان کے ساتھ ڈسکس ہوئے۔ بالآخر میری خواہش پر میری ہی ایک تصویر سرورق کے لیے منتخب ہوئی۔
کتاب کے سرورق پر میری جو Penwork painting ہے ،یہ مجھے ہمیشہ پسند رہی ہے۔ یہ تصویر ۲۰۰۷ء کواٹک میں میری ایک نمائش میں بھی شامل تھی۔ اس تصویر کو دیکھنے والوں نے بھی پسند کیا ۔میں نے اس تصویر میں ایک ایسی عورت کو Paint کیا ہے جس کا چہرہ،جس کی شناخت ابھی زمانے کی نگاہوں سے اوجھل ہے جو اپنے اصل تعارف کے انتظار میں ہے ،جو اذنِ جنوں کی طلب گار ہے!

۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۰ئ شازیہ اکبر

 

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں