شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

غزل

ٹوٹ جائوگے تم ، ہم بکھر جائیں گے حادثہ اس طرح یہ گزر جائے گا
وقت سے بازیاں کون جیتا یہاں، وقت فاتح ہے فاتح ہی کہلائے گا

ہم سنیں گے ترے قہقہوں کی کھنک زندگی اس طرح نغمہ بن جائے گی
اپنا کیا ہے یہاں ہنس نہ پائے اگر روتے روتے ہی جیون گزر جائے گا

روشنی کا حوالہ رہو تم سدا تیری آنکھوں کے جگنو چمکتے رہیں
یاد رکھنا اگر ہم جو بھٹکے کبھی سارا الزام تیرے ہی نام آئے گا

مجھ کو ماضی میں تم قید کر کے صنم سائباں اپنی یادوں کا اک تان دو
پھر قیامت ہو یا وقت کا حادثہ جو بھی آئے گا آکر گزر جائے گا

تیرے لکھے ہوئے خط جلائیں تو کیا تیری ہر اک نشانی مٹائیں تو کیا
کون روکے گا تیرے خیالات کو کون یادوں کو زنجیر پہنائے گا

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں