شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

غزل

کسی کی یاد آنے پر مجھے تم کیوں بلاتے ہو
اُسے تُم دھیان میں رکھ کرمری صورت بناتے ہو

میری تعریف کر کے تم سمجھتے ہو کہ میں خوش ہوں
مگر درپردہ اُس بُت کی محبت کو نبھاتے ہو

مجھے تو دیتے ہو دھوکہ مگر خود سے ذرا پوچھو
کہ اپنے آپ سے بھی جھوٹ اکثر بول جاتے ہو

رہائی مِل نہیں سکتی تمہیں اپنی اسیری سے
کہ روزن سے لگے رہتے ہو دَر کو بھول جاتے ہو
ترے قدموں میں تیرے خوف کے موہوم دھاگے ہیں
مگر تم اِن سے ڈرتے ہو انھی سے خوف کھاتے ہو

مجھے کہہ کربلاتے ہو کہ موسم آج اچھا ہے
میں آجائوں تو کمرا بند کر کے بیٹھ جاتے ہو

مجھے کہتے ہو اپنی رائے سے تم کو کروں آگاہ
مگر جب فیصلے کرتے ہو ، رائے بھول جاتے ہو

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں