شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

غزل

’’نِت نئے نقش بناتے ہو مِٹا دیتے ہو‘‘
وہ مصور ہو کہ تصویر جلا دیتے ہو

اب تو ہر سانس ہی یادوں میں گزر جاتی ہے
اس طرح دِل کو دھڑکنے کی سزا دیتے ہو

خود ہی دیتے ہو مرے دل کو تسلی جاناں!
خود ہی تم درد کے شعلوں کو ہوا دیتے ہو

جب بھی آتے ہو نظر آنکھ چمک اٹھتی ہے
دِل کی دنیا میں کئی رنگ جگا دیتے ہو
تم خدا ہو تو کرو ظرف بھی اپنا کامل
جو بھی کرتے ہو کرم ، اُس کو جتا دیتے ہو

چھین لیتے ہو سرِ شام مری آنکھ کا نور
صبح ہوتے ہی کئی دیپ جلا دیتے ہو

ہم تو بھیگی ہوئی پلکیں بھی چھپا رکھتے ہیں
اور تم زخم سرِ بزم سجا دیتے ہو

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں