شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

ہم دونوں کب اپنے تھے

یاد ہے تم کو میں نے تم سے
سارے موسم بانٹے تھے
یاد ہے تم کومیںنے اپنا
ہر اک روپ دِکھایا تھا
اپنی ذات کے ہراِک جھوٹ سے
ہر سچ سے مِلوایا تھا
چائے کے اِک کپ سے لے کر
ساون کی بارش کے پہلے قطرے تک
اپنے سنگ تمہیں رکھا تھا
اپنے سنگ تمہیں پایا تھا
یاد ہے تم کو، تم سے مل کر
میں کیسے کھل اُٹھتی تھی
تم سے من کی باتیں کر کے
کتنی خوش ہو جاتی تھی
تم کویاد یقینا ہو گا
وہ جو افسانوں کو پڑھ کر
تم سے بحث ہوا کرتی تھی
کیسی کیسی بے تُکی سی باتوں پر
محفل دیر تلک سجتی تھی
لمبے لمبے خطوں میں اپنے
چھوٹے چھوٹے جھگڑے تھے
سب سے نرالے خواب تھے اپنے
سب سے اچھوتے سپنے تھے
ہاں وہ شاید خواب تھے سارے
ہاں وہ شاید سپنے تھے
ہم دونوں تھے غیرازل سے
ہم دونوں کب اپنے تھے

٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں