شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

اے مرے حسیں لوگو!

زندگی کے پہلو سے
گرچہ روز اُٹھتے ہو
جاگتے نہیں لوگو
اے میرے حسیں لوگو!
رات ظلمتیں لے کر
کب سے آن سوئی ہے
نیند کتنی صدیوں کی
آنکھ میں سموئی ہے
یہ سکوتِ شب مجھ کو
مثلِ مرگ لگتا ہے
سہما سہما بھیگا سا
رُوئے برگ لگتا ہے
اور یہ سادگی ا ب تک
تم نوائے بلبل کو
گیت ہی سمجھتے ہو
اور جرس کے نالے پر
اب بھی سر کو دُھنتے ہو
کیا تمہیں بھی کلیوںکا
سینہ چاک دِکھتا ہے؟
کیا تمہیں بھی لالہ کے
دل کا داغ دِکھتا ہے؟
جس کو بخت کہتے ہو
اُس کی روشنی تُم نے
خود عدو کو سونپی ہے
اے مرے حسیں لوگو!
کاش زندگی تم کو
اتنی مہلتیں دے دے
تُم خود اپنے ہاتھوں سے
زندگی کے قصے کو
یعنی اپنے حصّے کو
لوحِ وقت پر لکھو
٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں