شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

تپسیّا

اے مرے دیوتا!
جانے کیا سوچ کر
نقش تیرے میں ازبر ہی کرتی گئی
تیری آنکھوں کو دیکھا تو دیپک جلے
تیری پیشانی نکھرا ہوا چاند تھی
تیرے ہاتھوں کی الجھی سی ریکھائوں میں
میں نے قسمت کے رستے تراشا کیے
تیرے ہونٹوں کی مسکان میں بھی مجھے
سارے لمحے ٹھہرتے دکھائی دیئے
تیرے چرنوں پہ جب ہاتھ میں نے رکھے
مرے دِل میں مسرت کے گلشن کھِلے
چوم کر تیرے پائوں کو اکثر یونہی
زندگی کو نئے معنی دیتی رہی
کھیلتے کھیلتے تیرے بالوں سے میں
زندگی کے سبھی غم بھلاتی رہی
تو میرا پیار تھا
اور میری ذات کے روپ اور رنگ کا
توہی تنہا مری جان حق دار تھا
بھول مجھ سے ہوئی
میں نے اپنی محبت کی ہر اِک کلی
بس ترے نام کی
میں کہ نادان تھی ،میں نہ سمجھی کہ یہ
جگمگاتے ہوئے نقش پتھر کے ہیں
ہاتھ،آنکھیں،لب ورخ بھی پتھر کے ہیں
اُس کے سینے میں موجود دل
زندگی کی حرارت سے محروم ہے
سخت بے مہر ہے اوریہ بے حسی اُس کا مقسوم ہے

٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں