شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

نعت رسول مقبول

اِک ترے خواب کی پہچان ہماری آنکھیں
ہو گئیں فخرِ دل وجان ہماری آنکھیں

اب ترے بعد کسی اور کو کیسے دیکھیں
ہو گئیں تجھ پہ تو قربان ہماری آنکھیں

رکھ کے آنکھوں میں تجھے موند لوں پلکیں اپنی
یوںرہیں صورتِ جزدان ہماری آنکھیں

جانے کس عرضِ تمنا نے ثمربار کیا
کس عبادت کا ہیں فیضان ہماری آنکھیں

جیسے صحرا کی کڑی دھوپ میں پیاسے راہی
اس طرح رہتی تھی ویران ہماری آنکھیں

اب انھیں گردِ زمانہ سے رکھیں گے محفوظ
اب ہیں سرمایہ ٔایمان ہماری آنکھیں
٭
(خواب میں زیارتِ رسولِ کائنات ﷺ سے شرف یاب ہونے پر)

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں