شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

سولر سسٹم

سائنس دان یہی کہتے ہیں
صدیوں پہلے ، جانے کب سے
دھرتی تھی سورج کا حصّہ
پھر اِک سانحہ ایسا گزرا
وقت نے اِس کو
اصل وجود سے کاٹ دیا اور
تنہائی کی کھلی فضا میں چھوڑ دیا
لیکن دھرتی کے بھیتر میں
عشق و وفا بیدار ہوئے
سورج سے اِک دُوری پر بھی
اس نے رشتہ قائم رکھا
گویا وجودِ اصل سے اُس نے
اپنا تعلق جوڑ لیا
روز وشب کے ہنگامے کو
ایک مدار کے نام کیا
پیار میں صبح کو شام کیا
لمحوں کے پیکر نے خود کو
بارہا اِک دوجے سے بدلا
چاروں اوَر نہ جانے کتنے
سانحے ابھرے، حادثے پھوٹے
دھرتی کے بھیتر میں کتنے طوفاں اُٹھے
عرصۂ ہجر کی ویرانی میں
اس کے بدن پر نقش بھی ابھرے
دُکھ کی چادر اوڑھ لی، لیکن
دھرتی اپنا اصل نہ بھولی
سورج دیوتا من میں بسائے
ماتھے پر سیندور سجائے
عشق ووفا کے ایک مدار پہ
لہراتی ،مسکاتی جائے
ہجر میںوصل کے خواب سجائے
دھرتی پیار نبھائے
دھرتی کی یہ پیار کہانی
عشق ووفا کی امر نشانی
تُو بھی میرا سورج ساجن!
میں ہوں تیری دھرتی
صدیوں پہلے
میں بھی تیرا حصّہ تھی
وقت کی گردش نے مجھ کو بھی
اپنی اصل سے کاٹا
یعنی تُجھ سے دُور کیا
ساجن! اپنی اصل سے کٹنا
کیسا ادھورا کر دیتا ہے
میں نے اپنی اصل سے رشتہ قائم رکھا
ہجر کے صدمے سہتی ،وصل کے خواب سجاتی
روز وشب کے ہنگاموں کو ایک مدار کے نام کیا
تُجھ کو سورج جانا
تیرے طواف کو اپنا نصب العین کیا
عرصۂ ہجر کے زنداں میںبھی
عشق ووفا کے دیپ جلے ہیں

٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں