شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی

وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
جاناں! میں ہوں تیری لیکن
اسم مرا منسوب کسی کے نام سے ہے
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میری نیندیں،میرے خواب ترے ہیں لیکن
جس بستر پر میں سوتی ہوں تیرا نہیں ہے
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میرے جنوں کاباعث تیری آنکھیں ہیں
لیکن اِن کے پاگل پن کو
عنواں کوئی نہ مل پائے گا
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
دِل بستی میں،سدا بسیں گی یادیں تیری
لیکن تیرے نام کی تختی کہیں نہ ہوگی
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میرے شعر نثار ہیں تُجھ پر
لیکن تیرے نام سے ہر گز
یہ نہ معنون ہو پائیں گے
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میرے شعر کی رگ رگ اندر
تیرا پیار ہی گونجے گا
لیکن دھڑکن گونگی رہے گی
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میری منڈیر پہ،جتنی شامیں بھی اُتریں گی
ان کے نور میں تیرے نام کا
ایک ستارہ روشن ہو گا
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
میں آنگن میں کھلنے والی کچی کلی کے
مہکے مہکے بدن کو چھُو کر ،نام تمہارا لیا کروں گی
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
دیکھو! ہر شب نیند سے پہلے،اپنی اُجلی پیشانی پر
میرے بوسے کی حدت کوزندہ رکھنا
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
ساجن! ساتھی! سانول میرے
سانس کے تانے بانے تک
میں تیری ہوں تیری رہوں گی
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں