شاعری

pictureمجھے اذنِ جنوں دے دو

شاعرہ: شازیہ اکبر
موسمِ اشاعت: جنوری ۲۰۱۱ء
ا ہتماِمِ اشاعت:سرمد اکادمی، اٹک
قیمت:۲۰۰ روپے
انتساب: اُس ربِّ کائنات کی صنعت گری کے نام جس نے میرے خیال کو تمثیل کر دیا
تشکیل ای بک:نوید فخر

سوداگر

اے خوابوں کے سوداگر!
آج میں تجھ کو سونپتی ہوں
اپنے سارے سچے خواب
اپنے دِل کی زندہ دھڑکن
اپنے روپ کے سارے راز
جانتی ہوں کہ مجھ سے پہلے
تمھارا پیار! تمھارے جذبے
خوابوں کا عنوان رہے ہیں
کئی آنکھوں نے مجھ سے پہلے
دیکھے ہوں گے خواب تمھارے
کئی ہونٹوں پہ نام تمھارا
اُبھر کے آخر ڈوبا ہوگا
کئی آنکھوں میں روپ تمھارا
عکس کی صورت لرزا ہو گا
کتنے دلوں کی دھڑکن دھڑکن
گونجے ہوںگے گیت تمھارے
کتنے ہاتھوں اور بانہوں میں
خوشبو تیری رچتی ہوگی
کتنی سانسوںکے دامن میں
کتنے رنگ مہکتے ہوں گے
کتنی سوچیں آکر تیرے
خیال پہ اِک دِن اٹکی ہوںگی
کتنی بصارتیں تیری خاطر
جانے کب تک ترسی ہوںگی
کتنے عقیدے، کتنے مذہب
لرزتے ہوںگے تیری خاطر
کتنے دلوںکی سونی راہیں
اب بھی تجھے بلاتی ہوںگی
کتنی امیدیں، کتنی کلیاں
تیری راہ سجاتی ہوں گی
کتنے سرخ گلابوں میں بھی
تیری یادوں کی رُت ہوگی
تیرے قدموں کی آہٹ پر
کتنے رستے جھومتے ہوںگے
کتنے راہی راہ میں بیٹھے
تیرا رستہ تکتے ہوںگے
کتنی سیپوں کے ہونٹوں میں
تیرے نام کاموتی ہوگا
کتنی خالی خالی بانہیں
تجھ کو پاس بُلاتی ہوںگی
کتنی بیاضیں ،کتنے صفحے
تیرے نام سے روشن ہوں گے
کتنے قلموں کی نوکوں نے
نامے تجھ کو لکھے ہوںگے
کتنی سونی سونی نظریں
خواب تمھارے بُنتی ہوںگی
کتنے پھول اٹھا کر سر کو
تیری صورت تکتے ہوںگے
کتنی بھینی سی مہکاریں
تیرے بدن سے لپٹی ہوں گی
کتنے بادل ایسے ہیں جو
چھوکر تجھ کو برسے ہوںگے
کتنے پیڑوں کے سینوں پر
رقم تمہارا نام بھی ہوگا
کتنی سوچوں کی گلیوں میں
تیری یادیں زندہ ہوں گی
کھلتے ہوںگے کتنے دریچے
تیری دید کی آس میں ساجن!
کتنے ارماں ، تیری خاطر
اپنے ہی خوں میں نہائے ہوں گے
کتنی راتوں کی تنہائی
تیری خاطر جاگی ہوگی
کتنے ناموںکی رسوائی
نام پہ تیرے لکھی ہوگی
کتنی پلکیں نام پہ تیرے
کیسے لرزی کانپی ہوں گی
کتنی بوجھل بوجھل آنکھیں
تیری جانب اُٹھتی ہوںگی
کیا کیاسوچیں سوچتی ہوںگی
کتنے دِل اور کتنے ارماں
تیری منت مانتے ہوںگے
کتنے چہرے ایسے ہوںگے
نام پہ تیرے کھلتے ہوں گے
کتنے خوابوں کے کتبوں پر
اسم تمہارا کندہ ہوگا
کتنے بارش کے قطروں نے
تیرے گال کو چوما ہوگا
کتنے چائے کے کپ اب بھی
تیری خاطر رکھے ہوںگے
کتنے پائوں کی زنجیریں
تیرے خیال کی کڑیاں ہوںگی
کتنی مہکی مہکی زلفیں
جو شانوں پہ بکھری ہوںگی
کتنے بتوں نے تجھ کو پاکر
عرش بھی اپنے چھوڑے ہوںگے
کتنی منڈیروںسے بیلیں بھی
جھانک کے تجھ کو دیکھتی ہوںگی
کتنے جاڑوں کی سہ پہریں
تجھ کو دیکھ کے ڈوبی ہوںگی
کتنی شاموں کی بے چینی
تیرے غم میں سہمی ہوگی
کتنی راتوں کی تاریکی
تیرے ہجر میں گہری ہوگی
کتنے بادل دکھ پر تیرے
ٹوٹ ٹوٹ کے برسے ہوںگے
کتنے گیتوں کی سرگم میں
تیرا لہجہ شامل ہوگا
کتنے گھروںکی بنیادوں میں
تیرا نام بھی شامل ہوگا
کتنی خواہش کی پریوں نے
تیرے گھنگھرو باندھے ہوںگے
کتنی چِتاوں کے بستر پر
تیرا پیار بھی جلتا ہوگا
کتنے تارے اترے ہوںگے
تیری راہوں کوچمکانے
کتنے پرندوں کی چہکاریں
گیت تمہارے گاتی ہوںگی
کتنے فطرت کے رنگوںنے
تجھ کو ہمدم دیکھا ہوگا
اے خوابوں کے سوداگر !!!!
آج سے میں بھی شامل ہوں
تیری زیست کے افسانوں میں
ساری صبحوں ، شاموں میں
پیار کے سب پیمانوں میں
اے خوابوں کے سوداگر!
آج میں تجھ کو سونپتی ہوں
اپنے سارے سچے خواب
اپنے روپ کے سارے راز
٭٭٭

صفحات : 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21| 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | 32 | 33 | 34 | 35 | 36 | 37 | 38 | 39 | 40 | 41 | 42 | 43 | 44 | 45 | 46 | 47 | 48 | 49 | 50 | 51 | 52 | 53 | 54 | 55 | 56 | 57 | 58 | 59 | 60 | 61 | 62 | 63 | انڈیکس |

تازہ ترین

کیا آپ صاحب کتاب ہیں؟

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصنیف دنیا بھر میں لاکھوں شائقین تک پہنچے ؟ تو کتاب ”ان پیچ“ فارمیٹ میں اور سرورق سکین کر کے ہمیں ای میل یا ارسال کریں، ہم آپ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید معلومات کے لئے یہاں کلک کریں